دکھ
قسم کلام: اسم مجرد
معنی
١ - تکلیف، درد، اذیت، بے چینی، مصیبت (جس سے دل دکھی ہو)، سکھ اور آرام کی ضد۔ جینا ہے تو دکھ بھی ہے سکھ بھی رونا بھی ہنسنا بھی ہے ساز ایک ہی ہوتا ہے جس پر سب راگ بجائے جاتے ہیں ( ١٩٥١ء، آرزو لکھنوی، سازحیات، ١ )
اشتقاق
سنسکرت زبان سے ماخوذ ہے۔ اردو میں سنسکرت سے معنوی اعتبار سے من و عن داخل ہوا اور ساخت کے اعتبار سے عربی رسم الخط میں مستعمل ہوا۔ سب سے پہلے ١٣٣٧ء کو امیر حسن علا سنجری کے ہاں مستعمل ملتا ہے۔
جنس: مذکر