دکھاوا

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - ظاہرداری، غالیش، ریاکاری، بناوٹ، تصنع۔ "افراد کے متعلق قدرت اللہ کی رائے دکھاوے کی نہیں تھی۔"      ( ١٩٨٦ء، اوکھے لوگ، ٢٥٤ ) ٢ - نظارہ، رویا۔ "اور وہ دکھاوا جو تجکو دکھایا ہم نے سو جانچنے کو لوگوں کے۔"      ( ١٧٩٠ء، ترجمۂ قرآن مجید، شاہ عبدالقادر، ٢٧٠ )

اشتقاق

سنسکرت زبان سے ماخوذ فعل لازم 'دیکھنا' سے فعل متعدی 'دکھانا' بنا جس کے آخر سے علامت مصدر 'نا' ہٹا کر 'وا' بطور لاحقۂ حاصل مصدر لگایا گیا ہے۔ اردو میں ١٧٩٠ء کو شاہ عبدالقادر کے "ترجمۂ قرآن مجید" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ظاہرداری، غالیش، ریاکاری، بناوٹ، تصنع۔ "افراد کے متعلق قدرت اللہ کی رائے دکھاوے کی نہیں تھی۔"      ( ١٩٨٦ء، اوکھے لوگ، ٢٥٤ ) ٢ - نظارہ، رویا۔ "اور وہ دکھاوا جو تجکو دکھایا ہم نے سو جانچنے کو لوگوں کے۔"      ( ١٧٩٠ء، ترجمۂ قرآن مجید، شاہ عبدالقادر، ٢٧٠ )

اصل لفظ: دیکھنا
جنس: مذکر