دکھڑا
معنی
١ - دکھ، تکلیف، مصیبت۔ آؤ کہ پل بھر مل کے بیٹھیں، بات سنیں اور بات کہیں من کی بپتا تن کا دکھڑا، دنیا کے حالات کہیں ( ١٩٧٨ء، ابن انشا، دل وحشی، ٢٩ ) ٢ - رنج و غم کا بیان، درد آمیز افسانہ۔ بشاشت کے قصے، مصیبت کے دکھڑے حبیبوں کے چہرے حسینوں کے مکھڑے ( ١٩٥٣ء، سموم و صبا، ٦٥ ) ٣ - ایسی بات کا بیان جو سامع یا مخاطب کو ناگوار ہو، گلہ، شکوہ، شکایت۔ اے نوح روز کوئی کہاں تک سنا کرے دکھڑا رقیب کا وہی رونا نصیب کا ( ١٩٠٣ء، سفینۂ نوح، ٨ ) ٤ - محنت مزدوری، سخت مشقت۔ "دکھڑا کیا اور پیٹ پالا۔" ( ١٩٠٦ء، مخزن، جون، ٢١ )
اشتقاق
سنسکرت زبان سے ماخوذ اسم مجرد 'دکھ' کے ساتھ فارسی قاعدے کے تحت 'ڑا' بطور لاحقۂ تصغیر و تحقیر لگایا گیا ہے۔ اردو میں ١٨٠٣ء کو "رانی کیتکی" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
٤ - محنت مزدوری، سخت مشقت۔ "دکھڑا کیا اور پیٹ پالا۔" ( ١٩٠٦ء، مخزن، جون، ٢١ )