دکھیارا
قسم کلام: صفت ذاتی
معنی
١ - درد رسیدہ، مصیبت زدہ، آفت کا مارا، مظلوم، رنج و غم میں گرفتار، دکھی دل رکھنے والا۔ کیا کہے اب میرِ غم کش اس سوا کے ہمیشہ کے دکھیارے اسلام ( ١٨١٠ء، میر، کلیات، ١٣٣١ )
اشتقاق
سنسکرت زبان سے ماخوذ اسم 'دکھ' کے ساتھ 'یارا' بطور لاحقۂ صفت لگانے سے 'دُکھیارا' بنا۔ اردو میں بطور صفت نیز اسم استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٧٩١ء سے "کلیات حسرت لکھنوی" میں مستعمل ملتا ہے۔
جنس: مذکر