دھارا
معنی
١ - (دریا کا) بہاؤ، رو، چشمہ، سوتا۔ "ترجموں کا دھارا ہمارے ادب کی کھیتیوں کی کس کس طرح سیراب کرتا رہا ہے۔" ( ١٩٨٥ء، ترجمہ: روایت اور فن، ٦٨ ) ٢ - سلسلہ، قطار۔ تماشا انجھواں کا کہ نچویوں کا دھارا ہے ہمارا رونا پیارے یہ اندر کا اکھاڑا ہے ( ١٧١٨ء، دیوانِ آبرو، ٧٧ ) ٤ - [ گاڑی بانی ] بیلی یا اکّے کے پچھوتئیے پر جڑے ہوئے چوبی ڈنڈے جن سے پچھلا کھلا حصہ ڈھک جاتا ہے۔ (اصطلاحاتِ پیشہ وراں، 131:5) ٦ - ترازو کی ڈنڈی کا درمیانی بند جس کو پکڑ کر تولا جاتا ہے۔ (قاموس الفصاحت، 219)۔
اشتقاق
سنسکرت سے اردو میں ماخوذ ہے اور عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٧١٨ء کو "دیوانِ آبرو" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - (دریا کا) بہاؤ، رو، چشمہ، سوتا۔ "ترجموں کا دھارا ہمارے ادب کی کھیتیوں کی کس کس طرح سیراب کرتا رہا ہے۔" ( ١٩٨٥ء، ترجمہ: روایت اور فن، ٦٨ )