دھاندلی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - اصل بات کو چھپانے کا عمل، مکرو فریب، دھوکا، بے ایمانی۔ "رزق میں فراغت یا روزگار میں برکت چوری، بے ایمانی یا دھاندلی کی کی وجہ سے کبھی نہیں ہوتی۔"      ( ١٩٨٥ء، روشنی، ٥٠٩ )

اشتقاق

سنسکرت الاصل لفظ 'دوند' سے اردو میں ماخوذ 'دھاند' کے ساتھ 'ل' کے اضافہ سے حاصل 'دھاندل' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقہ کیفیت بڑھانے سے 'دھاندلی' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے ١٩٢٢ء کو "گوشہ عافیت" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - اصل بات کو چھپانے کا عمل، مکرو فریب، دھوکا، بے ایمانی۔ "رزق میں فراغت یا روزگار میں برکت چوری، بے ایمانی یا دھاندلی کی کی وجہ سے کبھی نہیں ہوتی۔"      ( ١٩٨٥ء، روشنی، ٥٠٩ )

اصل لفظ: دوِنَدو
جنس: مؤنث