دھاڑ

قسم کلام: اسم نکرہ ( مذکر، مؤنث - واحد )

معنی

١ - انبوہ، بِھیڑ، مجمع؛ چوروں اور لیٹروں کا گروہ۔ "گاؤں سے آواز آئی کہ دھاڑ ہے۔"      ( ١٩١٧ء، غدر دہلی کے افسانے، ٣٣:٢ ) ٢ - ڈاکا۔ (پلیٹس)۔ ٦ - (مرکبات میں بطور جزو دوم) لڑائی، جھگڑا؛ مارپیٹ۔ "مار دھاڑ کرکے ویزہ لیتا ہوں، الٹے پیروں واپس آتا ہوں۔"      ( ١٩٨٤ء، زمیں اور فلک اور، ٩٣ )

اشتقاق

پراکرت سے اردو میں داخل ہوا اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے نیز پراکرت میں سنسکرت الاصل لفظ 'دھڑار' سے ماخوذ ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٦٣٨ء کو "مرآت الحشر" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - انبوہ، بِھیڑ، مجمع؛ چوروں اور لیٹروں کا گروہ۔ "گاؤں سے آواز آئی کہ دھاڑ ہے۔"      ( ١٩١٧ء، غدر دہلی کے افسانے، ٣٣:٢ ) ٦ - (مرکبات میں بطور جزو دوم) لڑائی، جھگڑا؛ مارپیٹ۔ "مار دھاڑ کرکے ویزہ لیتا ہوں، الٹے پیروں واپس آتا ہوں۔"      ( ١٩٨٤ء، زمیں اور فلک اور، ٩٣ )