دھاگا

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - سوت، ڈورا، تاگا۔  چرخا چھوڑنا ہیں، دھاگا توڑنا ہیں کچے سوت کو بھی سچے ہاتھ کاتیں    ( ١٩٧٧ء، من کے تار، ١٠٣ ) ٢ - جانوروں یا پودوں کی ساخت میں ریشہ رشتک۔ "ان حشرات میں سرے کا وسطی دھاگا (Terminal Median Filament) نہیں ہوتا۔"    ( ١٩٧١ء، حشریات، ٧٤ ) ٣ - (روشنی کی )لہر، تار۔ "ڈسچارج پہلی مرتبہ ٹیوب میں گزرنے لگتا ہے اور ارغوانی (Purpish) سے رنگ کا روشنی کا دھاگا نمودار ہو جاتا ہے۔"      ( ١٩٧٠ء، جدید طبیعیات، ٢١ )

اشتقاق

سنسکرت الاصل لفظ 'دھا' سے ماخوذ 'دھاگا' اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور ١٥٦٤ء کو "دیوان حسن شوقی" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - جانوروں یا پودوں کی ساخت میں ریشہ رشتک۔ "ان حشرات میں سرے کا وسطی دھاگا (Terminal Median Filament) نہیں ہوتا۔"    ( ١٩٧١ء، حشریات، ٧٤ ) ٣ - (روشنی کی )لہر، تار۔ "ڈسچارج پہلی مرتبہ ٹیوب میں گزرنے لگتا ہے اور ارغوانی (Purpish) سے رنگ کا روشنی کا دھاگا نمودار ہو جاتا ہے۔"      ( ١٩٧٠ء، جدید طبیعیات، ٢١ )

اصل لفظ: دھا
جنس: مذکر