دھبا

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - نشان، ٹیکا، داغ۔ "رگوں میں صدمات کی تمازت سے سرخ آنکھوں کی پتلیوں کے سیاہ دھبے سکڑ رہے ہیں۔"      ( ١٩٨١ء، اکیلے سفر کا اکیلا مسافر، ٢٧ ) ٢ - عیب، کلنک؛ بیجا الزام۔  جرم ناکردہ کا الزام سر آنکھوں پہ مگر اپنے دَامن کے یہ دھبے تو چھپاو پہلے      ( ١٩٨١ء، مضراب و رباب، ٢٣٤ )

اشتقاق

پراکرت زبان کے لفظ 'تھپہ' سے ماخوذ 'دھبا' اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے ١٨٦٥ء کو "دیوانِ نسیم دہلوی" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - نشان، ٹیکا، داغ۔ "رگوں میں صدمات کی تمازت سے سرخ آنکھوں کی پتلیوں کے سیاہ دھبے سکڑ رہے ہیں۔"      ( ١٩٨١ء، اکیلے سفر کا اکیلا مسافر، ٢٧ )

اصل لفظ: تھیہ
جنس: مذکر