دھتکارنا

قسم کلام: فعل متعدی

معنی

١ - تحقیر کرنا، ذلیل کرنا، لعنت ملامت کرنا، جھڑکنا۔ "غیر ملکیوں سے پیسے مانگتے ہیں، ان کے سامنے انہیں دھتکارا بھی نہیں جا سکتا۔"      ( ١٩٨٣ء، سفرِ مینا، ٩٤ )

اشتقاق

سنسکرت الاصل لفظ 'دھرتم' سے ماخوذ 'کلمہ تنفر 'دھت' کے ساتھ 'کار' بڑھانے سے حاصل اسم 'دھتکار' کے بعد اردو قاعدے کے تحت علامت مصدر 'نا' لگانے سے 'دھتکارنا' بنا۔ اردو میں بطور مصدر استعمال ہوتا ہے اور ١٨٨٠ء کو "آبِ حیات" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - تحقیر کرنا، ذلیل کرنا، لعنت ملامت کرنا، جھڑکنا۔ "غیر ملکیوں سے پیسے مانگتے ہیں، ان کے سامنے انہیں دھتکارا بھی نہیں جا سکتا۔"      ( ١٩٨٣ء، سفرِ مینا، ٩٤ )

اصل لفظ: دھرتم