دھرتی

قسم کلام: اسم ظرف مکان

معنی

١ - زمین، ارض۔  اُجالے ہیں تری پہنائیوں میں اندھیرے ہیں مگر دھرتی کو گھیرے      ( ١٩٨٤ء، سمندر، ٣٠ ) ٢ - قطعہ زمین (کھیت وغیرہ)، اراضی۔ "کسان چاہتا ہے کہ میں اپنی دھرتی سے گزارا کروں۔"      ( ١٩٠٧ء، کرزن نامہ، ١٥٢ ) ٣ - مٹی "بھگوان نے کھیر پور کی دھرتی بڑی اوپچاو کی ہے۔"      ( ١٨٨٨ء، ابن الوقت، ٦٨ ) ٤ - دنیا، جہاں۔  ساری دھرتی دب گئی سائینس سے لگ گئے پائپ گیا دنیا سے پاپ      ( ١٩٢١ء، اکبر، کلیات، ٣٩٨:٣ )

اشتقاق

سنسکرت الاصل دو الفاظ 'دھرتر+کا' سے ماخوذ 'دھرتی' اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور اردو میں سب سے پہلے ١٥٠٣ء کو "نوسرہار" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - قطعہ زمین (کھیت وغیرہ)، اراضی۔ "کسان چاہتا ہے کہ میں اپنی دھرتی سے گزارا کروں۔"      ( ١٩٠٧ء، کرزن نامہ، ١٥٢ ) ٣ - مٹی "بھگوان نے کھیر پور کی دھرتی بڑی اوپچاو کی ہے۔"      ( ١٨٨٨ء، ابن الوقت، ٦٨ )

اصل لفظ: دھرتر+کا
جنس: مؤنث