دھم
قسم کلام: اسم صوت
معنی
١ - گرنے کی آواز، گدا کا، دھما کا، کودنے کا آواز۔ (فرہنگِ آصفیہ؛ نوراللغات)۔ ٢ - [ موسیقی ] چہک تال کے ٹھیکے کا ایک لفظ۔ "پہلی ضرب جو دھم پر ہے وہاں سے لے کر کٹ تک کا زمانہ خالی ہے۔" ( ١٩٦٠ء، حیاتِ امیر خسرو، ١٩٧ )
اشتقاق
سنسکرت سے اردو میں دخیل اسم صورت ہے۔ اردو میں ١٩٦٠ء کو "حیاتِ امیر خسرو" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
٢ - [ موسیقی ] چہک تال کے ٹھیکے کا ایک لفظ۔ "پہلی ضرب جو دھم پر ہے وہاں سے لے کر کٹ تک کا زمانہ خالی ہے۔" ( ١٩٦٠ء، حیاتِ امیر خسرو، ١٩٧ )
اصل لفظ: دَھما
جنس: مؤنث