دھمکانا
معنی
١ - ڈرانا، خوف دلانا؛ خوف زدہ کرنا۔ "انہوں نے کشمیری زبان میں وفد کے ارکان کو خوب ڈرایا دھمکایا۔" ( ١٩٨٢ء، آتشِ چنار، ١١٧ )
اشتقاق
سنسکرت الاصل لفظ 'دھم کر' سے پراکرت میں ماخوذ اسم مصدر 'دھمکا' سے اردو میں ماخوذ اسم 'دھمک' کے ساتھ اردو قاعدے کے تحت لاحقہ مصدر 'انا' بڑھانے سے 'دھمکانا' حاصل ہوا۔ اردو میں بطور فعل استعمال ہوتا ہے اور ١٧٤٧ء کو "دیوانِ قاسم" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - ڈرانا، خوف دلانا؛ خوف زدہ کرنا۔ "انہوں نے کشمیری زبان میں وفد کے ارکان کو خوب ڈرایا دھمکایا۔" ( ١٩٨٢ء، آتشِ چنار، ١١٧ )