دھننا

قسم کلام: فعل متعدی

معنی

١ - روئی دھنکنا، روئی صاف کرنا۔ "ہندوؤں کا گوشت ریزہ ریزہ ہو کر پانی پت کے میدان میں اس طرح اڑ رہا ہے جیسے دھنیا روئی دھن رہا ہے۔"      ( ١٩٨١ء، رزمیہ داستانیں (ترجمہ)، ٤٦٠ ) ٢ - [ مجازا ]  پٹکنا (سر کو)۔ سر کو پیٹنا، دے مارنا۔ "ڈھولک کی تھاپ پر سر دھنتے ہیں۔"      ( ١٨٨٤ء، تذکرہ غوثیہ، ٥٤ ) ٣ - مارنا، پیٹنا۔ "بعض وخت تو ویسے اس بری طریوں دہنتا (دھنتا) ہے، کہ وہ ادموئی ہو جاتی ہے۔"      ( ١٩٢٧ء، نرالی اردو، ١٥ ) ٤ - رونا، چلانا، گریہ و زاری کرنا۔  پڑی تھی لاش عاشق کی جہاں پر گئی دھنتی ہوئی آخر وہاں پر      ( ١٨٨١ء، مثنوی نلدمن، ٤٣ ) ٥ - مشقت اٹھانا، نفس کشی کرنا، ریاضت کرنا۔  پنبہ سمجھ کے ہم نے بھی حلاج کی طرح عنصر ہی چاروں جسم کے دھن کر اڑا دیئے      ( ١٨٩٧ء، خانۂ خمار، ١٠٨ )

اشتقاق

پراکرت زبان سے ماخوذ ہے۔ اردو میں بطور فعل متعدی استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً ١٨٧٤ء سے "مجالس النساء" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - روئی دھنکنا، روئی صاف کرنا۔ "ہندوؤں کا گوشت ریزہ ریزہ ہو کر پانی پت کے میدان میں اس طرح اڑ رہا ہے جیسے دھنیا روئی دھن رہا ہے۔"      ( ١٩٨١ء، رزمیہ داستانیں (ترجمہ)، ٤٦٠ ) ٢ - [ مجازا ]  پٹکنا (سر کو)۔ سر کو پیٹنا، دے مارنا۔ "ڈھولک کی تھاپ پر سر دھنتے ہیں۔"      ( ١٨٨٤ء، تذکرہ غوثیہ، ٥٤ ) ٣ - مارنا، پیٹنا۔ "بعض وخت تو ویسے اس بری طریوں دہنتا (دھنتا) ہے، کہ وہ ادموئی ہو جاتی ہے۔"      ( ١٩٢٧ء، نرالی اردو، ١٥ )