دھول

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - گرد، خاک، مٹی کے باریک باریک ذرے، مٹی، حقیر چیز۔  فرش سے تا عرش تھی تیری مسافت بے گِماں تابت و سیار بھی ٹھہرے ترے قدموں کی دھول      ( ١٩٨٤ء، سمندر، ١٩ ) ١ - بے مصرف، بے کار۔ "برائی کہاں نے آئے گی دھول۔"      ( ١٦٣٥ء، سب رس، ١٧ )

اشتقاق

سنسکرت سے اردو میں داخل ہوا اور عربی رسم الخط میں بطور اسم نیز گا ہے بطور متعلق فعل استعمال ہوتا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٦٢٥ء کو "سیف الملوک و بدیع الجمال" میں تحریراً مشتعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - بے مصرف، بے کار۔ "برائی کہاں نے آئے گی دھول۔"      ( ١٦٣٥ء، سب رس، ١٧ )

جنس: مؤنث