دھوم

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - چرچا، غللغہ، شہرت۔  پھر بھی یہ حال ہے کہ بقولِ جناب داغ "ہندوستان میں دھوم ہماری زبان کی ہے"      ( ١٩٨٢ء، ط ظ، ١٩ ) ٢ - شان و شوکت، طمطراق۔ "ایسی دھوم اور انتظام سے شادی کی کہ اگر حکیم صاحب خود بھی موجود ہوتے تو اس سے بڑھ کر نہ کرتے۔"      ( ١٩٠٠ء، خورشید بہو، ١١ ) ٣ - ہنگامہ، غل غپاڑا، چیخم دھاڑ۔ "گاؤں میں کتنی چہل پہل ہے عید گاہ جانے یک دُھوم ہے۔"      ( ١٩٣٥ء، دودھ کی قیمت، ٥٧ )

اشتقاق

سنسکرت زبان کے لفظ 'دھون' سے ماخوذ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے ١٧٣٩ء کو "کلیاتِ سراج" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - چرچا، غللغہ، شہرت۔  پھر بھی یہ حال ہے کہ بقولِ جناب داغ "ہندوستان میں دھوم ہماری زبان کی ہے"      ( ١٩٨٢ء، ط ظ، ١٩ ) ٢ - شان و شوکت، طمطراق۔ "ایسی دھوم اور انتظام سے شادی کی کہ اگر حکیم صاحب خود بھی موجود ہوتے تو اس سے بڑھ کر نہ کرتے۔"      ( ١٩٠٠ء، خورشید بہو، ١١ ) ٣ - ہنگامہ، غل غپاڑا، چیخم دھاڑ۔ "گاؤں میں کتنی چہل پہل ہے عید گاہ جانے یک دُھوم ہے۔"      ( ١٩٣٥ء، دودھ کی قیمت، ٥٧ )

اصل لفظ: دھون
جنس: مؤنث