دھوکا

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - حقیقت حال (مافی الضمیر) سے بے خبر رکھ کر دوسرے کو غلط راستے پر ڈالنے کا عمل، مکَر، فریب، دَغا۔ "اقتصادی امتحصال سے آزادی . کے بغیر سیای آزادی صرف دھوکہ اور سراب ہے۔"      ( ١٩٨٢ء، آتشِ چنار، ٩٢٣ ) ٢ - غلط فہمی، مغالطہ، بھول چوک، فریبِ نظر۔  جب سے دیکھا ترے لطفِ مسلسل کا فریب ہر نوازش سے لرزتا ہوں کہ دھوکا ہو گا    ( ١٩٧٩ء، دریا آخر دریا ہے، ١٩٧ ) ٣ - بے اصل، بے حقیقت چیز جس کا وجود نہ ہو۔  مرا وجود حقیقت مرا عدم دھوکا فنا کی شکل میں سر چشمۂ بقا ہوں میں    ( ١٩٤٧ء، نوائے دل، ١٥٦ )

اشتقاق

سنسکرت الاصل لفظ 'دھورتک' سے ماخوذ 'دھوکا' اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے ١٨٠٣ء کو "گنج خوبی" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - حقیقت حال (مافی الضمیر) سے بے خبر رکھ کر دوسرے کو غلط راستے پر ڈالنے کا عمل، مکَر، فریب، دَغا۔ "اقتصادی امتحصال سے آزادی . کے بغیر سیای آزادی صرف دھوکہ اور سراب ہے۔"      ( ١٩٨٢ء، آتشِ چنار، ٩٢٣ ) ٦ - پرندوں کو ڈرانے کا پتلا؛ ڈر، گھبراہٹ، مایوسی، ناامیدی؛ کوئی چیز جس سے دھوکا ہو، کوئی چیز جو صاف نہ نظر آئے۔"

اصل لفظ: دھورتک
جنس: مذکر