دھیرج

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - صبر، تحمل، استقلال، ثابت قدمی، ہمت۔ "بڑے عالموں کی سی دھیرج مجھ میں کہاں تھی کہ خود اپنی راہ چلتا۔"      ( ١٩٧٨ء، بے ہمت مسافر، ٥٢ ) ٢ - تسلی | اطمینان، دِلاسا۔ "کرپا کرکے جلدی اس معمہ کو حل کیجیے تاکہ سب کے دل کو دھیرج ہو۔"      ( ١٩١٥ء، آریہ سنگیت رامائن، ٢٤:١ ) ٣ - آہستگی، قناعت، پسندی۔ "بنکاک میں ہر چیز ہوا کے گھوڑے پر سوار ملتی ہے، لیکن ان دیہاتوں میں زندگی کی دھیرج اور طماتیت نظر آتی ہے۔"      ( ١٩٨٠ء، دائروں میں دائرے، ٧٢ ) ٤ - نازوادا، ناز نخرے، آہستگی۔ "اور وہ پھر ہنسا اور بڑے دھیرج سے بولا۔"      ( ١٩٨٧ء، حصار، ١٣٤ )

اشتقاق

سنسکرت الاصل لفظ 'دھیری' سے ماخوذ 'دھیرج' اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ اور سب سے پہلے ١٧٣٧ء کو "طالب و مونہی" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - صبر، تحمل، استقلال، ثابت قدمی، ہمت۔ "بڑے عالموں کی سی دھیرج مجھ میں کہاں تھی کہ خود اپنی راہ چلتا۔"      ( ١٩٧٨ء، بے ہمت مسافر، ٥٢ ) ٢ - تسلی | اطمینان، دِلاسا۔ "کرپا کرکے جلدی اس معمہ کو حل کیجیے تاکہ سب کے دل کو دھیرج ہو۔"      ( ١٩١٥ء، آریہ سنگیت رامائن، ٢٤:١ ) ٣ - آہستگی، قناعت، پسندی۔ "بنکاک میں ہر چیز ہوا کے گھوڑے پر سوار ملتی ہے، لیکن ان دیہاتوں میں زندگی کی دھیرج اور طماتیت نظر آتی ہے۔"      ( ١٩٨٠ء، دائروں میں دائرے، ٧٢ ) ٤ - نازوادا، ناز نخرے، آہستگی۔ "اور وہ پھر ہنسا اور بڑے دھیرج سے بولا۔"      ( ١٩٨٧ء، حصار، ١٣٤ )

اصل لفظ: دھَیری
جنس: مذکر