دھیمی
معنی
١ - دھیما کی تانیث (تراکیب میں مستعمل۔) "منہ اچھی طرح بند کر کے دھیمی آنچ پر پکائیں۔" ( ١٩٨٥ء، سعدیہ کا دسلرخوان، ١٧٤ ) ٢ - سوچی سمجھی رفتار یا طریقۂ کار، آہستہ آہستہ کی گئی کوئی تدبیر۔ "مگر عباسی اپنی دھیمی اور دور اندیشی اور خاموش تدبیر میں کامیاب ہوئے۔" ( ١٨٩٨ء، سر سید، مقالات، ١٦٤ )
اشتقاق
سنسکرت سے ماخوذ اسم صفت 'دھیما' کی 'ا' حذف کر کے 'ی' بطور لاحقۂ نانیث لگانے سے بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً ١٨٩٨ء سے "سرسید، مقالات" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - دھیما کی تانیث (تراکیب میں مستعمل۔) "منہ اچھی طرح بند کر کے دھیمی آنچ پر پکائیں۔" ( ١٩٨٥ء، سعدیہ کا دسلرخوان، ١٧٤ ) ٢ - سوچی سمجھی رفتار یا طریقۂ کار، آہستہ آہستہ کی گئی کوئی تدبیر۔ "مگر عباسی اپنی دھیمی اور دور اندیشی اور خاموش تدبیر میں کامیاب ہوئے۔" ( ١٨٩٨ء، سر سید، مقالات، ١٦٤ )