دہری
معنی
١ - خرما کی ایک قسم جس کی کھجوریں بہ آسان کاشت ہوتی ہیں۔ "دہری: . فرمایا ہے اور لکھا ہے کہ یہ قسم دنیا بھر میں ہر جگہ اگ سکتی ہے اسی سے اس کا نام دہری ہوا۔" ( ١٩٠٧ء، فلاحت النخل، ٤٧ ) ١ - فطرت پسند، نیچری، دنیا پرست، بے دین، لامذہب۔ "لامذہب و دہری کی طرف سے سوال حکمت کا پیش ہونا ایسا ہی ہے کہ کوئی شخص فن طب کی حقیقت ہی کا سرے سے منکر ہو۔" ( ١٩٤٥ء، حکیم الامت، ٧٠ )
اشتقاق
عربی زبان سے اسم مشتق 'دہر' کے ساتھ فارسی قاعدے کے مطابق 'ی' بطور لاحقۂ نبست لگائی گئی ہے۔ اردو میں ١٨٨٨ء کو "ابن الوقت" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - خرما کی ایک قسم جس کی کھجوریں بہ آسان کاشت ہوتی ہیں۔ "دہری: . فرمایا ہے اور لکھا ہے کہ یہ قسم دنیا بھر میں ہر جگہ اگ سکتی ہے اسی سے اس کا نام دہری ہوا۔" ( ١٩٠٧ء، فلاحت النخل، ٤٧ ) ١ - فطرت پسند، نیچری، دنیا پرست، بے دین، لامذہب۔ "لامذہب و دہری کی طرف سے سوال حکمت کا پیش ہونا ایسا ہی ہے کہ کوئی شخص فن طب کی حقیقت ہی کا سرے سے منکر ہو۔" ( ١٩٤٥ء، حکیم الامت، ٧٠ )