دہریا
قسم کلام: اسم نکرہ
معنی
١ - خدا کو نہ ماننے والا، ملحد، لامذہب۔ "مذہبی قانون بنانے والوں کی محنت کی داد دینے پر ایک دہریا تک مجبور ہوتا ہے۔" ( ١٩٢٩ء، بہار عیش، ٢٧ )
اشتقاق
عربی زبان سے اسم مشتق ہے 'دہر' کے ساتھ 'یا' بطور لاحقۂ فاعلی لگایا گیا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٧١٨ء کو "دیوان آبرو" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - خدا کو نہ ماننے والا، ملحد، لامذہب۔ "مذہبی قانون بنانے والوں کی محنت کی داد دینے پر ایک دہریا تک مجبور ہوتا ہے۔" ( ١٩٢٩ء، بہار عیش، ٢٧ )
اصل لفظ: دہر
جنس: مذکر