دہل

قسم کلام: اسم آلہ

معنی

١ - معمول سے بہت بڑی ناند یا گملے کی شکل کا کھال منڈھا ہوا باجا جس کی آواز گرج دار اور بہت بڑی ہوتی ہے فوج میں یا دور پرے آواز پہنچانے کے لیے کسی زمانے میں استعمال کیا جاتا تھا، دھونسا، دمامہ، دھاک، ڈنکا، کوس، سرمنڈل۔  ہاں مگر رقص برہنہ کے لیے نغمہ کہاں سے لائیں? دہل و تار کہاں سے لائیں? چنگ و تلوار کہاں سے لائیں?      ( ١٩٨٦ء، ن م راشد ایک مطالعہ، ٢٢٢ )

اشتقاق

فارسی زبان سے اسم جامد ہے۔ سنسکرت میں بھی مستعمل ہے۔ ممکن ہے سنسکرت سے اردو میں داخل ہوا ہے لیکن تراکیب میں استعمال کی بنا پر فارسی سے ماخوذ لگتا ہے اردو میں ١٦٥٧ء کو "گلشن عشق" میں مستعمل ملتا ہے۔

جنس: مذکر