دہلانا
قسم کلام: فعل متعدی
معنی
١ - خوف زدہ کرنا، ڈرانا۔ "ہوا کے دوش پر دہلانے والے خواب ہیں، بھولو پرانی بات کو تم۔" ( ١٩٦٦ء، زرد آسمان، ٢٩ )
اشتقاق
ہندی زبان سے ماخوذ فعل لازم 'دہلنا' کا تعدیہ 'دہلانا' بنا۔ اردو میں فعل متعدی استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً ١٨١٨ء سے "دیوان اظفری" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - خوف زدہ کرنا، ڈرانا۔ "ہوا کے دوش پر دہلانے والے خواب ہیں، بھولو پرانی بات کو تم۔" ( ١٩٦٦ء، زرد آسمان، ٢٩ )
اصل لفظ: دَہْلنا