دیا

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - مٹی کا چھوٹا پیالہ جس میں بیشتر کڑوا تیل اور روئی یا کپڑے کی بٹی ہوئی بتی ڈال کر جلاتے ہیں یا اس کے مماثل کسی اور چیز کا ظرف، دیوا، دیپ، دیولا۔ "اس نے دیا میرے ہاتھ میں تھما دیا۔"      ( ١٩٨٦ء، اوکھے لوگ، ٥٦ ) ٢ - [ مجازا ]  روشنی کا منبع؛ باعث رونق، رہنما، سردار۔ "کام کے لحاظ سے محمد طفیل اردو ادب کا الہ دین ہے، نقوش ان کا دیا ہے۔"      ( ١٩٨٦ء، اوکھے لوگ، ١٤٧ )

اشتقاق

سنسکرت زبان سے ماخوذ اسم جامد ہے۔ اردو میں عربی رسم الخط میں مستعمل ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٧١٨ء کو "دیوان آبرو" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - مٹی کا چھوٹا پیالہ جس میں بیشتر کڑوا تیل اور روئی یا کپڑے کی بٹی ہوئی بتی ڈال کر جلاتے ہیں یا اس کے مماثل کسی اور چیز کا ظرف، دیوا، دیپ، دیولا۔ "اس نے دیا میرے ہاتھ میں تھما دیا۔"      ( ١٩٨٦ء، اوکھے لوگ، ٥٦ ) ٢ - [ مجازا ]  روشنی کا منبع؛ باعث رونق، رہنما، سردار۔ "کام کے لحاظ سے محمد طفیل اردو ادب کا الہ دین ہے، نقوش ان کا دیا ہے۔"      ( ١٩٨٦ء، اوکھے لوگ، ١٤٧ )

جنس: مذکر