دیدہ
معنی
١ - آنکھ، پتلی۔ تم نے بخشی ہے روشنی ورنہ دیدہ و دل دھواں دھواں ہوتے ( ١٩٨٤ء، زادِ سفر، ٢٨ ) ٢ - نظر، نگاہ۔ دیدہ فرق سے ٹک دیکھ، کہ ایک اک پل میں رنگ بدلے ہے، زمانے کی ہوا کیا کیا کچھ ( مرزا جیو (دو نایاب زمانہ بیاضیں)، ٩٠:٢ ) ٣ - [ مجازا ] دلیری، جرات، بہادری۔ "کس کا دیدہ ہے کہ بے مروتوں سے چار آنکھیں کرے۔" ( ١٩١١ء، غیب دان دلہن، ١٤١ ) ٤ - [ تصوف ] مطلع ہونا خدا کا سالک کل احوال پر خواہ وہ از قسم خیر ہوں یا شر، چشم بصیرت۔ (مصباح التعرف، 120)
اشتقاق
فارسی زبان سے ماخوذ اسم ہے۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے تحریراً ١٨٨١ء سے "دیوان ماہ" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
٣ - [ مجازا ] دلیری، جرات، بہادری۔ "کس کا دیدہ ہے کہ بے مروتوں سے چار آنکھیں کرے۔" ( ١٩١١ء، غیب دان دلہن، ١٤١ )