دیمک

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - چیونٹی کے برابر بھورے رنگ یا کتھئی رنگ کا ایک کیڑا جس کے بازو پر ایک جھلی سی ہوتی ہے اور وہ لکڑی اور کاغذ کو کھا جاتا ہے۔ "دیمک کے تودوں کے . پاس اردو اک کے پکڑنے کے لیے پنجرے بنائے جاتے ہیں جہاں یہ پھنس جاتا ہے۔"      ( ١٩٧٥ء، افریقہ کے جانور، ٩:٢ ) ٢ - [ مجازا ]  کوئی نقصان دہ انسان یا چیز، جم جانے والا، چپکنے والا۔ "ناظم صوبہ کیا ہے دیمک ہے جس جگہ چپکا اوس کو برباد کر دیا۔"      ( ١٩٠٦ء، مرات احمدی، ١٢٨ )

اشتقاق

فارسی زبان سے اسم 'دیو' کے ساتھ حصہ تصغیر 'ک' لگانے سے 'دیوک' بنا جس میں تصرف کیا گیا ہے۔ اردو میں ١٨١٠ء کو "اخوان الصفا" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - چیونٹی کے برابر بھورے رنگ یا کتھئی رنگ کا ایک کیڑا جس کے بازو پر ایک جھلی سی ہوتی ہے اور وہ لکڑی اور کاغذ کو کھا جاتا ہے۔ "دیمک کے تودوں کے . پاس اردو اک کے پکڑنے کے لیے پنجرے بنائے جاتے ہیں جہاں یہ پھنس جاتا ہے۔"      ( ١٩٧٥ء، افریقہ کے جانور، ٩:٢ ) ٢ - [ مجازا ]  کوئی نقصان دہ انسان یا چیز، جم جانے والا، چپکنے والا۔ "ناظم صوبہ کیا ہے دیمک ہے جس جگہ چپکا اوس کو برباد کر دیا۔"      ( ١٩٠٦ء، مرات احمدی، ١٢٨ )

جنس: مذکر