دیپک
معنی
١ - دیا، چراغ، دیوا۔ ساجن نے جو پَلّو ترا کھینچا تَو نے جلتے ہوئے دیپک پہ ہتھیلی رکھ دی ( ١٩٧٨ء، گھر آنگن، ١٠٦ ) ٢ - [ مجازا ] فکر و خیال کی روشنی۔ میرے ادراک کے اندھیرے میں کتنے دیپک سلگ سلگ کے بجھے ( ١٩٨١ء، تشنگی کا سفر، ١٠٦ ) ٣ - فصل جیٹھ اور اساڑہ (مطابق مئی جون) میں بعد زوال گایا جانے والا سمپوزن راگ جو سات سروں پر مشتمل ہوتا ہے اور جس کے متعلق روایت ہے کہ اس کے گانے سے آگ لگ جاتی ہے۔ جلنے بجھنے میں ہے جو بات ہکنے میں کہاں کبھی دیپک کبھی ملہار سنا موج شراب ( ١٩٨٠ء، شہر سدا رنگ، ٥٨ ) ٥ - [ مجازا ] کوئی روشن درخشاں چمک دار چیز۔ رتن جو یو دیپک زمن کے ہوئے سزا وار شہ انجمن کے ہوئے ( ١٦٥٧ء، گلشن عشق، ٣١ )
اشتقاق
سنسکرت زبان سے اسم جامد 'دیپ' کے ساتھ 'ک' بطور لاحقۂ تصغیر لگایا گیا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٥٠٣ء کو "نوسرہار" میں مستعمل ملتا ہے۔