ذاتیات

قسم کلام: اسم نکرہ ( مذکر، مؤنث - جمع )

معنی

١ - شخصی یا نجی باتیں، حالت و معاملات۔ "جو بتدریج مبحث سے دور ہو کر ذاتیات میں اُلجھی چلی جائیں گی۔"      ( ١٩٨٧ء، اک محشرِ خیال، ٢٧ ) ٢ - کسی شخص یا شے کی خصوصیات یا اوصاف جو اس میں پائے جاتے ہوں یا اس سے روایۃً منسوب ہوں اور اس کی تعریف میں شامل ہوں۔ "ششم بمعنی تعریف جو ذاتیات پر مشتمل ہو۔"      ( ١٩٧٣ء، قصیدۃ البُردہ (ترجمہ)، ١٠٩ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسمِ صفت ذاتی کے آخر پر 'ات' بطور لاحقہ جمع لگانے سے بنا۔ اردو میں اپنے اصل مفہوم کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے ١٨٩٣ء کو "مقدمہ شعرو شاعری" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - شخصی یا نجی باتیں، حالت و معاملات۔ "جو بتدریج مبحث سے دور ہو کر ذاتیات میں اُلجھی چلی جائیں گی۔"      ( ١٩٨٧ء، اک محشرِ خیال، ٢٧ ) ٢ - کسی شخص یا شے کی خصوصیات یا اوصاف جو اس میں پائے جاتے ہوں یا اس سے روایۃً منسوب ہوں اور اس کی تعریف میں شامل ہوں۔ "ششم بمعنی تعریف جو ذاتیات پر مشتمل ہو۔"      ( ١٩٧٣ء، قصیدۃ البُردہ (ترجمہ)، ١٠٩ )

اصل لفظ: ذو