ذریعہ

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - سب، وسیلہ، واسطہ۔ "اپنی مقصد بر آری کے لیے تبلیغ و تلقین کے ہر ممکن ذریعے کو استعمال کرنا اُن کا ایمان ہے۔"      ( ١٩٨٧ء، اک محشرِ خیال، ٢٤ ) ٢ - طفیل، علاقہ، تعلق، لگاؤ، رسُوخ۔ (فرہنگِ آصفیہ)

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے جو اردو میں اپنے اصل معنی و ساخت کے ساتھ بطور اسم ہی استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٦٩ء کو "دیوان غالب" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - سب، وسیلہ، واسطہ۔ "اپنی مقصد بر آری کے لیے تبلیغ و تلقین کے ہر ممکن ذریعے کو استعمال کرنا اُن کا ایمان ہے۔"      ( ١٩٨٧ء، اک محشرِ خیال، ٢٤ )

اصل لفظ: ذرع
جنس: مذکر