ذلالت

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - ذلّت، خواری، رُسوائی۔  گرایا شیخ تو نے چاہِ ذلت میں مریدوں کو تری اس رہبری سے تو عصائے کور بہتر تھا      ( ١٧٩٥ء، دیوانِ قائم، ١٦ ) ٢ - کمینہ پن، رذالت۔ "ذلالت: یا تو رذالت کے قیاس پر یا ایک دوسرے لفظ ضلالت (گمراہی) سے دھوکا کھا کر ذلالت کمینہ پن ایک نیا لفظ بنا لیا گیا ہے۔"      ( ١٩٧٤ء، اُردو املا، ١٤٩ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے جو اردو میں اپنے معنی و ساخت کے ساتھ بطور اسم ہی استعمال ہوتا ہے۔ ١٧٩٥ء کو "دیوانِ قائم" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - کمینہ پن، رذالت۔ "ذلالت: یا تو رذالت کے قیاس پر یا ایک دوسرے لفظ ضلالت (گمراہی) سے دھوکا کھا کر ذلالت کمینہ پن ایک نیا لفظ بنا لیا گیا ہے۔"      ( ١٩٧٤ء، اُردو املا، ١٤٩ )

اصل لفظ: ذلل
جنس: مؤنث