ذلت

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - ۔۔۔ "ساتھ ساتھ ذِلت و تحقیر کا پہلو بھی شامل ہوتا ہے۔"      ( ١٩٨٤ء، تخلیق اور لاشعوری محرکات، ١٩٤ ) ٢ - رُسوائی، خواری، بدنامی۔  نہ ہر دم ہر گھڑی اس ذِلّت و خواری پہ روتا ہوں میں ہوں آزُردہ دل اپنی گرفتاری پہ روتا ہوں      ( ١٨٢٤ء، دیوانِ مصحفی، ١٦٩ ) ٣ - خستہ حالی، پستی۔ "میرا اصل مقصد تو اپنی مظلوم قوم کو ذلت و ادبار سے نکالنے کے لیے جد و جہد کرنا ہے۔"      ( ١٩٨٢ء، آتش چنار، ٧٢ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے جو اردو میں اپنے اصل معنی و ساخت کے ساتھ بطور اسم ہی استعمال ہوتا ہے ١٨١٠ء کو "کلیات میر" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ۔۔۔ "ساتھ ساتھ ذِلت و تحقیر کا پہلو بھی شامل ہوتا ہے۔"      ( ١٩٨٤ء، تخلیق اور لاشعوری محرکات، ١٩٤ ) ٣ - خستہ حالی، پستی۔ "میرا اصل مقصد تو اپنی مظلوم قوم کو ذلت و ادبار سے نکالنے کے لیے جد و جہد کرنا ہے۔"      ( ١٩٨٢ء، آتش چنار، ٧٢ )

اصل لفظ: ذلل
جنس: مؤنث