ذکا

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - ذہن کی تیزی، تیز فہمی، ذکرکی، طباعی، ذہانت۔ "آپ حسین بھی تھیں اور نیک مزاج بھی، فہم و ذکا سے بہرۂ وافر ملا تھا۔"      ( ١٩٦٧ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٢٤٦:٣ )

اشتقاق

عربی زبان سے ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے جو اردو میں اپنے اصل معنی اور ساخت کے ساتھ بطور اسم ہی استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٧٣٢ء کو "کربل کتھا" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ذہن کی تیزی، تیز فہمی، ذکرکی، طباعی، ذہانت۔ "آپ حسین بھی تھیں اور نیک مزاج بھی، فہم و ذکا سے بہرۂ وافر ملا تھا۔"      ( ١٩٦٧ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٢٤٦:٣ )

اصل لفظ: ذکء
جنس: مؤنث