ذکاوت

قسم کلام: اسم کیفیت ( واحد )

معنی

١ - ذہن کی تیزی، تیز فہمی، زیرکی، طباعی، ذہانت۔ "مسیح الملک آپ پر بچوں کی طرح مہربان تھے اور آپ کی ذکاوت اور قابلیت کی قدر کرتے تھے۔"      ( ١٩٨٧ء، تذکرۂ شعرائے بدایوں، ٧٦ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے جو اردو میں اپنے اصل مفہوم و ساخت کے ساتھ بطور اسم ہی استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٨٥ء کو "فسانۂ مبتلا" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ذہن کی تیزی، تیز فہمی، زیرکی، طباعی، ذہانت۔ "مسیح الملک آپ پر بچوں کی طرح مہربان تھے اور آپ کی ذکاوت اور قابلیت کی قدر کرتے تھے۔"      ( ١٩٨٧ء، تذکرۂ شعرائے بدایوں، ٧٦ )

اصل لفظ: ذکو