ذی

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - صاحب، خداوند، والا۔ "ذی تو سابقے کے طور پر آتا ہے . ذی کے معنی ہیں: والا جیسے ذی ہوش ہوش والا یا صاحبِ ہوش۔"      ( ١٩٧٤ء، اردو املاء ١٣٨ ) ١ - حیثیت، بضاعت۔ "اس نے اپنی ذی سے بڑھ کر کام کیا۔"      ( ١٩٦٨ء، مہذب اللغات، ٤٣٢:٥ ) ٢ - شان "یہ میری ذی کے خلاف ہے۔"      ( ١٩٦٨ء، مہذب اللغات، ٤٣٢:٥ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ اسم ہے جو اردو میں بھی اپنے اصل معنی و ساخت کے ساتھ بطور اسم نیز بطور صفت مستعمل ہے اور مرکبات میں بطور سابقہ استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٦١ء کو "سراپا سخن" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - صاحب، خداوند، والا۔ "ذی تو سابقے کے طور پر آتا ہے . ذی کے معنی ہیں: والا جیسے ذی ہوش ہوش والا یا صاحبِ ہوش۔"      ( ١٩٧٤ء، اردو املاء ١٣٨ ) ١ - حیثیت، بضاعت۔ "اس نے اپنی ذی سے بڑھ کر کام کیا۔"      ( ١٩٦٨ء، مہذب اللغات، ٤٣٢:٥ ) ٢ - شان "یہ میری ذی کے خلاف ہے۔"      ( ١٩٦٨ء، مہذب اللغات، ٤٣٢:٥ )

جنس: مذکر