رئیس

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - سردار، فرماں روا، مالک، حاکم۔  رئیس و راجہ و نواب منتظر ہیں بہ شوق کہ نائب شہِ لندن کی آمد آمد ہے      ( ١٩٢١ء، کلیات اکبر، ٣١٣:١ ) ٢ - دولت مند، پیسے والا، امیر۔ "فالتو کپڑے کس کے گھر میں ہیں شائد رئیسوں کے گھر میں ہوں۔"      ( ١٩٣٦ء، پریم چند، واردات، ٩ ) ٣ - نواب، راجہ۔ "دولت پور کے رئیس کا نام سن کر تو ماں کے منہ میں پانی بھر آیا۔"      ( ١٩٠٨ء، صبحِ زندگی، ٢٣١ ) ٤ - سربراہ "ایک چینی فاضل اس جامعہ کا رئیس مقرر ہوا۔"      ( ١٩٢٧ء، مقدمہ تاریخِ سائنس، ١، ١١٠٤:٢ ) ٦ - اہم، بڑا۔ "چونکہ شریانِ قلب جیسے رئیس عضو کی شاخ ہے اس میں یہ قوتیں لامحالہ زیادہ ہوتی ہیں۔"      ( ١٩٣٦ء، شرح اسباب (ترجمہ)،٢، ٢٨٤ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم فاعل ہے۔ اردو میں اپنے اصل معنی و ساخت کے ساتھ داخل ہوا اور بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٨٠١ء میں آرائش محفل میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - دولت مند، پیسے والا، امیر۔ "فالتو کپڑے کس کے گھر میں ہیں شائد رئیسوں کے گھر میں ہوں۔"      ( ١٩٣٦ء، پریم چند، واردات، ٩ ) ٣ - نواب، راجہ۔ "دولت پور کے رئیس کا نام سن کر تو ماں کے منہ میں پانی بھر آیا۔"      ( ١٩٠٨ء، صبحِ زندگی، ٢٣١ ) ٤ - سربراہ "ایک چینی فاضل اس جامعہ کا رئیس مقرر ہوا۔"      ( ١٩٢٧ء، مقدمہ تاریخِ سائنس، ١، ١١٠٤:٢ ) ٦ - اہم، بڑا۔ "چونکہ شریانِ قلب جیسے رئیس عضو کی شاخ ہے اس میں یہ قوتیں لامحالہ زیادہ ہوتی ہیں۔"      ( ١٩٣٦ء، شرح اسباب (ترجمہ)،٢، ٢٨٤ )

اصل لفظ: رءس
جنس: مذکر