رائفل

قسم کلام: اسم آلہ

معنی

١ - بندوق کی وضع کا آتشیں اسلحہ جس میں ایک نال اور کئی گولیاں بیک وقت بھرنے کی جگہ ہوتی ہے۔ اس کی نال میں بھال بھی لگائی جا سکتی ہے۔ اس کی مار بندوق سے زیادہ سخت اور دور رس ہوتی ہے۔ "میں چپ چاپ کمرے سے نکل کر اس بڑے لوہے کے گیٹ سے گزر رہا تھا جس کے دونوں جانب رائفلیں لیے ہوئے مستری کھڑے تھے۔"      ( ١٩٨١ء، قطب نما، ٥٦ )

اشتقاق

انگریزی زبان سے اردو میں اپنے اصل مفہوم کے ساتھ داخل ہوا اور بطور اسم مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٩٤٢ء میں "سنگ و خشت" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - بندوق کی وضع کا آتشیں اسلحہ جس میں ایک نال اور کئی گولیاں بیک وقت بھرنے کی جگہ ہوتی ہے۔ اس کی نال میں بھال بھی لگائی جا سکتی ہے۔ اس کی مار بندوق سے زیادہ سخت اور دور رس ہوتی ہے۔ "میں چپ چاپ کمرے سے نکل کر اس بڑے لوہے کے گیٹ سے گزر رہا تھا جس کے دونوں جانب رائفلیں لیے ہوئے مستری کھڑے تھے۔"      ( ١٩٨١ء، قطب نما، ٥٦ )

اصل لفظ: Rifle
جنس: مؤنث