راجا

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - فرماں روا۔ بادشاہ عموماً ہندو حکمران کے لیے مستعمل۔ "نیک اور ظالم راجے، حسیناؤں کے پیچھے مارے مارے پھرنے والے شہزادے ان کہانیوں کے کردار ہیں"      ( ١٩٧٥ء، پنجاب کی لوک کہانیاں، ٦ ) ٢ - سب سے بڑا ہندوستان خطاب۔ اس کے بھائی رام دیال کو بھی راجہ خِطاب عنایت کیا۔      ( ١٩٥٦ء، بیگماتِ اودھ، ١٢٣ ) ٤ - برہمنوں کا ایک فرقہ۔ "برہمن دس فرقوں میں تقسیم کیے جاتے ہیں۔ دیو، من، دوج، راجا، پیش سودر، ہڈالک، پش، ملیچھ، جانڈال"      ( ١٩٣٩ء، آئینِ اکبری (ترجمہ) ٩٤:٢ ) ٥ - [ ظرافت ]  کانا (ظریفوں کا اصطلاح میں)۔ "اس بیچارے کو میں نے حافظ کے لقب سے یاد کیا، ہنسوڑوں کی اصطلاح میں راجہ کہتے ہیں کانے کو حافظ کہتے ہیں"      ( ١٩٣١ء، اودھ پنچ، لکھنؤ، ١٦، ١:١٤ ) ١ - بے پروا، من موجی، فضول خرچ۔ (پلیٹس؛ جامع اللغات) ٢ - سخی، فیاض، بھولا بھالا۔ (نوراللغات) ٣ - [ کنایۃ ]  دولت مند، مالدار، امیر۔ "ایک طرف لاکھوں ادنٰے اعلٰی شاہ اور گدا . ٹھاکر راو بابو راجے زمیندار"      ( ١٨٤٥ء، حکایت سخن سنچ، ٦ ) ٤ - ماہراستادِ فن۔ "کالی داس حسنِ بیان کا راجا ہے"      ( ١٩٥٨ء، روشن مینار، ٣٨ )

اشتقاق

اردو میں سنسکرت زبان کا لفظ 'راجن' سے ماخوذ ہے اور بطور اسم نکرہ مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٥٦٤ء میں "حس شوقی کے دیوان" میں مستعمل ملتا ہے

مثالیں

١ - فرماں روا۔ بادشاہ عموماً ہندو حکمران کے لیے مستعمل۔ "نیک اور ظالم راجے، حسیناؤں کے پیچھے مارے مارے پھرنے والے شہزادے ان کہانیوں کے کردار ہیں"      ( ١٩٧٥ء، پنجاب کی لوک کہانیاں، ٦ ) ٤ - برہمنوں کا ایک فرقہ۔ "برہمن دس فرقوں میں تقسیم کیے جاتے ہیں۔ دیو، من، دوج، راجا، پیش سودر، ہڈالک، پش، ملیچھ، جانڈال"      ( ١٩٣٩ء، آئینِ اکبری (ترجمہ) ٩٤:٢ ) ٥ - [ ظرافت ]  کانا (ظریفوں کا اصطلاح میں)۔ "اس بیچارے کو میں نے حافظ کے لقب سے یاد کیا، ہنسوڑوں کی اصطلاح میں راجہ کہتے ہیں کانے کو حافظ کہتے ہیں"      ( ١٩٣١ء، اودھ پنچ، لکھنؤ، ١٦، ١:١٤ ) ٣ - [ کنایۃ ]  دولت مند، مالدار، امیر۔ "ایک طرف لاکھوں ادنٰے اعلٰی شاہ اور گدا . ٹھاکر راو بابو راجے زمیندار"      ( ١٨٤٥ء، حکایت سخن سنچ، ٦ ) ٤ - ماہراستادِ فن۔ "کالی داس حسنِ بیان کا راجا ہے"      ( ١٩٥٨ء، روشن مینار، ٣٨ )

اصل لفظ: راجَن
جنس: مذکر