رادھا

قسم کلام: اسم معرفہ

معنی

١ - کرشن جی کی ایک گوپی جس سے انہیں محبت تھی، کرشن کی بیوی۔  شہر کی اس گہما گہمی میں اب تو جی گھبراتا ہے رانی دیکھو اس نگری میں نہ کوئی کرشن نہ رادھا ہے      ( ١٩٨١ء، مثنوی قاسم و زہرہ، ١١٢ ) ٢ - کامیابی؛ اقبال مندی؛ طالع مند؛ ایک درخت؛ بیساکھ کی پورنما؛ محبت۔ (ماخوذ : جامع اللغات؛ ہندی اردو لغت) ٣ - رقاصہ، رادھا یعنی رقاصا۔  تیل کی مقدار پر موقوف ہے رادھا کا رقص الاماں یہ شرطِ باطل، العذریہ عذر لنگ      ( ١٩٤٥ء، سرود و خروش، ١٠٠ )

اشتقاق

سنسکرت سے اردو میں داخل ہوا اور بطور اسم علم مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٨٤٨ء میں "توصیف زراعات" میں مستعمل ملتا ہے۔

اصل لفظ: رادھا
جنس: مؤنث