رافضیت

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - رافضی ہونا، رافضی ہونے کی حالت، رافض پن۔ "میری رافضیت کا غلغلہ بلند ہو گیا تو میرے چچا نواب محمد علی خان . پر میرا نکاح نہایت شاق گزرا تھا۔"      ( ١٩٧٠ء، یادوں کی برات، ١٦٢ )

اشتقاق

عربی سے ماخوذ اسم صفت 'رافض' کے ساتھ 'یت' بطور لاحقۂ کیفیت لگانے سے 'رافضیت' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے ١٩٧٠ء کو "یادوں کی برات" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - رافضی ہونا، رافضی ہونے کی حالت، رافض پن۔ "میری رافضیت کا غلغلہ بلند ہو گیا تو میرے چچا نواب محمد علی خان . پر میرا نکاح نہایت شاق گزرا تھا۔"      ( ١٩٧٠ء، یادوں کی برات، ١٦٢ )

اصل لفظ: رفض
جنس: مؤنث