رافع

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - بلند کرنے والا، اوپر اٹھانے والا۔  اول میں ہیں دس عقول شامل ثانی میں وہ رافع سماوات      ( ١٩١٦ء، سائنس و فلسفہ، ١٧٢ ) ٢ - اللہ تعالٰی کا ایک صفاتی نام۔  تو غفور و باسط و حق واسع و قابض ہے تو تو شکور و عفو ہے اور رافع و خافض ہے تو      ( ١٩٨٤ء، الحمد، ٨٤ ) ٣ - الگ کرنے والا، دور یا دفع کرنے والا۔ "رافع خوف و مسہل ولادت بیان کیا جاتا ہے۔"      ( ١٩٢٩ء، کتاب الادویہ، ٤٠:٢ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق صفت ہے۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٦٥٤ء کو "گنج شریف" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٣ - الگ کرنے والا، دور یا دفع کرنے والا۔ "رافع خوف و مسہل ولادت بیان کیا جاتا ہے۔"      ( ١٩٢٩ء، کتاب الادویہ، ٤٠:٢ )

اصل لفظ: رفع
جنس: مذکر