راکھ

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - کسی جلی ہوئی چیز کی خاک، خاکستر، بھبوت، بھوبل۔ "راستے میں ہوا ایسی خراب جیسے دوزخ کا دھواں زمین بالکل سیاہ اور خاک جیسے راکھ۔"      ( ١٩٠٧ء، شعرالعجم، ٨٥:١ ) ٢ - مٹی، خاک، دھول۔ "ان لوگوں سے ملا ہوں . جن پر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ راکھ کی ہلکی سی تہ چڑھ جاتی ہے۔"      ( ١٩٨١ء، سفر در سفر، ٣٧ )

اشتقاق

سنسکرت سے ماخوذ ہے۔ اردو میں بطور اسم نکرہ مستعمل ہے اور سب سے پہلے ١٦٣٨ء میں "چندر بدن و مہیار" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - کسی جلی ہوئی چیز کی خاک، خاکستر، بھبوت، بھوبل۔ "راستے میں ہوا ایسی خراب جیسے دوزخ کا دھواں زمین بالکل سیاہ اور خاک جیسے راکھ۔"      ( ١٩٠٧ء، شعرالعجم، ٨٥:١ ) ٢ - مٹی، خاک، دھول۔ "ان لوگوں سے ملا ہوں . جن پر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ راکھ کی ہلکی سی تہ چڑھ جاتی ہے۔"      ( ١٩٨١ء، سفر در سفر، ٣٧ )

اصل لفظ: رکھشا
جنس: مؤنث