راہب

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - رومن کیتھولک کلیسا کا پادری، نصاریٰ کا پیشوا۔ "چند فرانسیسی راہب شہر میں قتل کر دیئے گئے تھے۔"      ( ١٩٦٧ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ١٩٤:٣ ) ٢ - تارک الدنیا، خانقاہ نشین، فقیر، جوگی، ڈر کر بھاگنے والا (خصوصاً عیسائی اور یہودیوں کے لیے مستعمل)۔ "اتنے بڑے عظیم انسان کو صوفی بنا رہے ہو راہب بنا رہے ہو۔"      ( ١٩٨١ء، سفر در سفر، ٩٠ ) ٣ - رہبر، پیشوا، ہادی۔  سلطاں فقیروں کا حقیروں کا ہے صاحب بخشندہ امیروں کا غریبوں کا ہے راہب      ( ١٨٧٧ء، صورت سنگھ (سندھ میں اردو شاعری، ١٢٨) )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے اسم فاعل ہے۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٧٣٢ء میں "کربل کتھا" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - رومن کیتھولک کلیسا کا پادری، نصاریٰ کا پیشوا۔ "چند فرانسیسی راہب شہر میں قتل کر دیئے گئے تھے۔"      ( ١٩٦٧ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ١٩٤:٣ ) ٢ - تارک الدنیا، خانقاہ نشین، فقیر، جوگی، ڈر کر بھاگنے والا (خصوصاً عیسائی اور یہودیوں کے لیے مستعمل)۔ "اتنے بڑے عظیم انسان کو صوفی بنا رہے ہو راہب بنا رہے ہو۔"      ( ١٩٨١ء، سفر در سفر، ٩٠ )

اصل لفظ: رہب
جنس: مذکر