ربانیت

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - رب (پروردگار) ہونے کی صفت یا خصوصیت، خدائی، الوہیت۔ "میرا دل اس کی ربانیت کے نور سے منور ہے اور آنکھیں اس کی صنع یزدانی سے بیناہیں۔"      ( ١٩٢٤ء، تذکرۃ الاولیا، ٢١٢ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ صفت 'ربانی' کے ساتھ 'ت' بطور لاحقۂ کیفیت لگانے سے 'ربانیت' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٩٢٤ء کو "تذکرۃ الاولیا" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - رب (پروردگار) ہونے کی صفت یا خصوصیت، خدائی، الوہیت۔ "میرا دل اس کی ربانیت کے نور سے منور ہے اور آنکھیں اس کی صنع یزدانی سے بیناہیں۔"      ( ١٩٢٤ء، تذکرۃ الاولیا، ٢١٢ )

اصل لفظ: ربب
جنس: مؤنث