ربیع
معنی
١ - پاک و ہند میں کھیتی باڑی کی وہ فصل جو اکتوبر، نومبر میں کاشت کی جاتی ہے (گیہوں، جو وغیرہ) اور مارچ، اپریل میں کاٹی جاتی ہے۔ "ان تمام ذریعوں کے لیے یہ ضروری ہے کہ سال کے مختلف موسم اور فصلیں جاڑا، گرمی، برسات، ربیع اور خریف گزر جائیں" "ابھی ربیع کھلیان میں نہیں آئی، اور گھر میں اناج کا دانہ نہیں ہے" ( ١٩٣٥ء، سیرۃ النبیۖ، ٢١٦:٥ )( ١٩٢٢ء، گوشۂ عافیت، ٩:١ ) ٢ - موسم بہار کا عرصہ جو ہمارے ہاں عموماً فروری اور مارچ میں ہوتا ہے، بسنت رت، بہار کا موسم۔ "ربیع کے دن وہ کہلاتے ہیں جبکہ جاڑا جاتا ہو اور گرمی آتی ہو" ( ١٩٠١ء، بہشتی زیور، ٤:٩ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق ہے اور بطور اسم مستعمل ملتا ہے اردو میں اپنے اصل مفہوم کے ساتھ داخل ہوا اور سب سے پہلے ١٨١٠ء میں "اخوان الصفاء" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - پاک و ہند میں کھیتی باڑی کی وہ فصل جو اکتوبر، نومبر میں کاشت کی جاتی ہے (گیہوں، جو وغیرہ) اور مارچ، اپریل میں کاٹی جاتی ہے۔ "ان تمام ذریعوں کے لیے یہ ضروری ہے کہ سال کے مختلف موسم اور فصلیں جاڑا، گرمی، برسات، ربیع اور خریف گزر جائیں" "ابھی ربیع کھلیان میں نہیں آئی، اور گھر میں اناج کا دانہ نہیں ہے" ( ١٩٣٥ء، سیرۃ النبیۖ، ٢١٦:٥ )( ١٩٢٢ء، گوشۂ عافیت، ٩:١ ) ٢ - موسم بہار کا عرصہ جو ہمارے ہاں عموماً فروری اور مارچ میں ہوتا ہے، بسنت رت، بہار کا موسم۔ "ربیع کے دن وہ کہلاتے ہیں جبکہ جاڑا جاتا ہو اور گرمی آتی ہو" ( ١٩٠١ء، بہشتی زیور، ٤:٩ )