رتبہ

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - عِزت و حُرمت کا درجہ یا مقام، منزِلت، پایہ؛ (مجازاً)، درجہ۔ "میرے رُتبہ اور مؤقف کے متعلق سوالات اٹھائے جارہے ہیں"      ( ١٩٨٢ء، آتشِ چنار، ٦٥٤ ) ٢ - حد (کسی کام کی)، حیثیت۔  لانے سے ہوا فائدہ مجھ کو یاں کیا جانے سے چرخ کا رُتبہ واں کیا      ( ١٩٣٨ء، الخیام، ١٥ ) ٣ - بلندی، سرفرازی۔ "بڑا کتا چھوٹے کتے کے بھونکنے کا جواب نہیں دیا کرتا، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسے اپنی شان اور اپنے رتبہ کا احساس ہے"      ( ١٩٣١ء، ارتقاء، ٧٨ ) ٤ - [ ریاضی ]  نسبت، درجہ، مقام۔ "ا ب ط، طہہ اور طہ باالترتیب ت میں رُتبوں . کی مقداریں ہیں"      ( ١٩٣٨ء، ذرہ اور استوار جسم کا علمِ حرکت، ٥٧٣ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق ہے۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے سب سے پہلے ١٦١١ء، میں "قلی قطب شاہ" کے کلیات میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - عِزت و حُرمت کا درجہ یا مقام، منزِلت، پایہ؛ (مجازاً)، درجہ۔ "میرے رُتبہ اور مؤقف کے متعلق سوالات اٹھائے جارہے ہیں"      ( ١٩٨٢ء، آتشِ چنار، ٦٥٤ ) ٣ - بلندی، سرفرازی۔ "بڑا کتا چھوٹے کتے کے بھونکنے کا جواب نہیں دیا کرتا، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسے اپنی شان اور اپنے رتبہ کا احساس ہے"      ( ١٩٣١ء، ارتقاء، ٧٨ ) ٤ - [ ریاضی ]  نسبت، درجہ، مقام۔ "ا ب ط، طہہ اور طہ باالترتیب ت میں رُتبوں . کی مقداریں ہیں"      ( ١٩٣٨ء، ذرہ اور استوار جسم کا علمِ حرکت، ٥٧٣ )

اصل لفظ: رتب
جنس: مذکر