رجائیت

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - امید و بیم کی کیفیت۔ "ہزار آندھیوں کے درمیان بھی رجائیت کے بادبان کھلے ہوئے ہیں اور شکستہ کشتیاں اپنے ساحلوں کی سمت رواں دواں ہیں"      ( ١٩٨٦ء، آنکھ اور چراغ، ٨٩ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے اسم مشق 'رجائی' کے ساتھ 'یت' بطور لاحقہ کیفیت و اسمیت لگا کر حاصل کیا گیا۔ اور اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٩٤٧ء میں "مضامین عابد" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - امید و بیم کی کیفیت۔ "ہزار آندھیوں کے درمیان بھی رجائیت کے بادبان کھلے ہوئے ہیں اور شکستہ کشتیاں اپنے ساحلوں کی سمت رواں دواں ہیں"      ( ١٩٨٦ء، آنکھ اور چراغ، ٨٩ )

اصل لفظ: رِجا
جنس: مؤنث