رجھانا

قسم کلام: فعل متعدی

معنی

١ - محظوظ کرنا، خوش کرنا۔  قوال گوجروں سنے کیا کم ہیں مجلسوں میں شبخوں لوٹ لے ہیں لیکن رجھا رجھا کر      چڑیوں نے گا کے دل لبھایا موروں نے ناچ کر رجھایا      ( ١٧٩٢ء، محب دہلوی، د، ١٧٤ )( ١٩١١ء، برق (جوالا پرشاد، ازگلدستہ پنچ)، ١٥٦ ) ٢ - لبھانا، متوجہ کرنا، ملتفت کرنا، مائل کرنا۔ "تو میرے لیے عورت کی مانند ہو گئی ہے کہ تو نے درشن دیئے رجھایا اور نظروں سے اوجھل ہو گئی۔"      ( ١٩٨٥، خیمے سے دور، ٨٦ )

اشتقاق

سنسکرت سے ماخوذ "ریجھنا" (ریجھ + نا، لاحقہ مصدر) کا تعدیہ ہے (ریجھ بمعنی خوش ہونا | خوشی)، اردو میں بطور فعل متعدی مستعمل ہے اور سب سے پہلے ١٦٠٩ء میں "قطب مشتری" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - لبھانا، متوجہ کرنا، ملتفت کرنا، مائل کرنا۔ "تو میرے لیے عورت کی مانند ہو گئی ہے کہ تو نے درشن دیئے رجھایا اور نظروں سے اوجھل ہو گئی۔"      ( ١٩٨٥، خیمے سے دور، ٨٦ )

اصل لفظ: رنج