رحلت

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - موت، انتقال، وفات۔ "فیض کی رحلت حجرۂ تاریک سے اٹھا کر، مجھے قلعہ لاہور کے شیش محل میں لے گئی۔"      ( ١٩٨٦ء، فیضانِ فیض، ٥ ) ٢ - کوچ، سفر۔ "شبلی نے ممالک اسلامیہ کا سفر کیا . اس رحلت کے دلچسپ حالات سفرنامہ میں شائع ہو چکے ہیں۔"      ( ١٩١٥ء، مقالات شیرانی، ١٧٣ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے اسم مشتق ہے۔ اردو میں اصل مفہوم کے ساتھ داخل ہوا۔ سب سے پہلے ١٦٨٢ء میں "رضوان شاہ و روح افزا" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - موت، انتقال، وفات۔ "فیض کی رحلت حجرۂ تاریک سے اٹھا کر، مجھے قلعہ لاہور کے شیش محل میں لے گئی۔"      ( ١٩٨٦ء، فیضانِ فیض، ٥ ) ٢ - کوچ، سفر۔ "شبلی نے ممالک اسلامیہ کا سفر کیا . اس رحلت کے دلچسپ حالات سفرنامہ میں شائع ہو چکے ہیں۔"      ( ١٩١٥ء، مقالات شیرانی، ١٧٣ )

اصل لفظ: رحل
جنس: مؤنث