رحمانیت

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - رحم و کرم، لطف و کرم۔ "بات اس کے فضل و کرم کی ہے رحمٰنیت اور رحیمی کی ہے کہ توبہ کے دروازے آخر وقت تک کھلے رکھے گئے ہیں۔"      ( ١٩٨٠ء، تجلی، ١٦٠ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ صفت 'رحمانی' کے ساتھ 'یت' بطور لاحقۂ نسبت لگانے سے 'رحمانیت' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٧٥٢ء کو "مرآت الحشر" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - رحم و کرم، لطف و کرم۔ "بات اس کے فضل و کرم کی ہے رحمٰنیت اور رحیمی کی ہے کہ توبہ کے دروازے آخر وقت تک کھلے رکھے گئے ہیں۔"      ( ١٩٨٠ء، تجلی، ١٦٠ )

اصل لفظ: رَحْمان
جنس: مؤنث