رذیل

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - کمینہ، سفلہ، کم ذات، نیچ، پاجی۔ "غلاموں کی ثقافت، میں اچھے اور برے کی بجائے شریف اور رذیل کا تضاد ابھرتا ہے۔"      ( ١٩٧٥ء، توازن، ٤٥ ) ٢ - گھٹیا (کام یا بات) برا، پست، نیچ۔  جس کے مسلک میں تشدد ہو دخیل اور چوری جس کا ہو پیشہ رذیل      ( ١٩٥٢ء، دھم پہ (ترجمہ)، ١٠١ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مستق صفت ہے۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٤٥ء کو "احوال الانبیا" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - کمینہ، سفلہ، کم ذات، نیچ، پاجی۔ "غلاموں کی ثقافت، میں اچھے اور برے کی بجائے شریف اور رذیل کا تضاد ابھرتا ہے۔"      ( ١٩٧٥ء، توازن، ٤٥ )

اصل لفظ: رذل